karachi sale
1958 کا سن، کراچی اپنی جوانی اور روشنیوں کے عروج پر تھا۔ شہر کی ایک مصروف تجارتی سڑک پر "ایم جلال الدین اینڈ برادرز" کی شاندار سیل کا اعلان ہوتے ہی لوگوں کا ہجوم امڈ آیا۔ مرد، عورتیں، بچے — سب کے چہروں پر خریداری کا جوش اور آنکھوں میں خوشی کی چمک نمایاں تھی۔
دکان کے باہر سجی کھڑکیوں میں جدید اور دلکش سامان نے ہر راہ گیر کو رکنے پر مجبور کر دیا۔ سڑک کے ایک طرف چمچماتی برٹش گاڑی Morris Minor کھڑی تھی، تو دوسری طرف ایک باوقار Triumph موٹر بائیک اپنی شان دکھا رہی تھی۔ یہ صرف سواری نہیں تھیں، بلکہ اُس وقت کے خواب، وقار اور طرزِ زندگی کی علامت تھیں۔
یہ منظر محض خرید و فروخت کا نہیں تھا، یہ اُس کراچی کی جھلک تھی جو زندگی سے بھرپور، امید سے لبریز اور ترقی کے سفر پر گامزن تھا۔ ایک ایسا شہر جہاں ہر دن ایک نئے خواب کی کرن لے کر طلوع ہوتا تھا۔
اشعر اشتیاق سبحانی
اگر آپ نے ابھی تک ہمارا یوٹیوب جینل سبسکرائب نہیں کیا تو جلدی سے کرلیں ۔
لنک نیچے دیا گیا ہے

Comments
Post a Comment