ہندوستان کی پہلی اے سی ٹرین – ایک تاریخی جھلک
ریلوے کی تاریخ میں 1 ستمبر 1928ء ایک یادگار دن ہے، جب متحدہ ہندوستان میں پہلی بار ایئر کنڈیشنڈ (A.C) ٹرین متعارف کروائی گئی۔ یہ ٹرین پنجاب ایکسپریس کہلاتی تھی اور اپنے دور کی ایک شاندار ایجاد سمجھی جاتی تھی۔
بعد ازاں 1934ء میں مشہور فرنٹیئر ایکسپریس میں بھی اے سی بوگیاں شامل کی گئیں، جو بمبئی سے پشاور تک چلتی تھی اور اسے اُس زمانے کی لگژری ٹرین کہا جاتا تھا
کلاسز کی تقسیم
فرسٹ کلاس: صرف انگریزوں کے لیے مخصوص، ایئر کنڈیشنڈ سہولت کے ساتھ۔
سیکنڈ کلاس: عام ہندوستانیوں کے لیے، بغیر اے سی سہولت۔
یہاں یہ جاننا دلچسپ ہے کہ اُس دور میں "اے سی" کا مطلب مشینی ایئر کنڈیشننگ نہیں تھا، بلکہ ریلوے حکام نے ایک منفرد نظام اپنایا تھا۔
اے سی بوگی کا نظام
بوگی کے فرش کے نیچے برف کے بڑے خانے بنائے جاتے تھے جن میں برف کے ڈبے (Ice Cans) رکھے جاتے۔ یہ برف آہستہ آہستہ پوری بوگی کو ٹھنڈا کر دیتی اور یوں مسافروں کو گرمی میں سکون ملتا۔
ہر بڑے اسٹیشن پر برف رکھنے کا انتظام ہوتا تاکہ طویل سفر کے دوران ٹھنڈک برقرار رہے۔
فرنٹیئر ایکسپریس
ابتدائی روٹ: بمبئی → دہلی → بٹھنڈہ → فیروزپور → لاہور → پشاور
نیا روٹ (1930ء کے بعد): بمبئی → سہارنپور → انبالہ → امرتسر → لاہور → پشاور
رفتار: تقریباً 60 میل فی گھنٹہ
یہ ٹرین اپنے وقت کی سب سے شاندار اور آرام دہ سواری سمجھی جاتی تھی
پاکستان اور برف سے ٹھنڈی بوگیاں
پاکستان کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر بھی برف سے ٹھنڈی بوگیوں کا استعمال ہوتا رہا:
شکارپور (سندھ): برٹش فوج کے بڑے ڈیری فارم سے دودھ اور مکھن انہی گاڑیوں میں کوئٹہ تک بھیجا جاتا۔
چمن ریلوے اسٹیشن: افغانستان سے تازہ پھل برف سے ٹھنڈی بوگیوں کے ذریعے اندرون ملک منتقل کیے جاتے۔
📖 حوالہ جات:
1. گرانڈ اولی ٹائ
2. گزٹیئر آف سندھ، سکھ
✨ یہ وہ دور تھا جب برف کے ڈبوں پر چلنے والی "اے سی ٹرین" ریلوے سفر کو لگژری اور سہولت کی نئی علامت بنا گئی۔

Comments
Post a Comment