اٹھائیس سال گزر گئے، تاریخ لوٹ آئی مگر میر مرتضیٰ کے ساتھ انصاف نہ ہوا۔۔۔؟
شہید ذوالفقار علی بھٹو کا جواں سال بیٹا، میر مرتضیٰ بھٹو، اپنے والد کو ضیاء الحق کے جھوٹے مقدمے سے بچانے کے لیے جلاوطنی اختیار کر کے دنیا کے رہنماؤں کو قائل کرتا رہا۔ مگر ضیاء نے کسی کی نہ سنی اور بھٹو صاحب کو پھانسی دے دی۔ میر کو روکنے کے لیے اس پر بے شمار جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔ اس نے پارٹی کی قیادت اپنی بہن بینظیر بھٹو کے حوالے کی اور خود جلاوطنی میں رہتے ہوئے پیپلز پارٹی کے لیے جدوجہد کرتا رہا۔
1988ء میں ضیاء کی موت کے بعد بھی اس نے بیرونِ ملک سے بہن بینظیر کی انتخابی مہم چلائی اور اسے کامیاب کرایا۔ میر نے سوچا کہ اب وہ بے خوف ہو کر پاکستان جا کر عوام کے درمیان ہوگا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ اقتدار کی ہوس اور زرداری سے تعلق نے بہن کو بھائی کا دشمن بنا دیا۔ وزیرِاعظم ہوتے ہوئے بھی اس نے ماں نصرت بھٹو کی التجاؤں کو نہ مانا اور میر کے ایک بھی مقدمے کو ختم نہ کرایا۔ دو سال بعد بینظیر کی حکومت بھی ختم کر دی گئی اور میر پھر بھی جلاوطن رہا۔
1993ء کے انتخابات میں میر نے بہن پر انحصار کرنے کے بجائے خود الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا اور لیاری، دادو اور لاڑکانہ سے کاغذات جمع کرائے۔ مگر بینظیر بھٹو نے سخت مخالفت کرتے ہوئے لیاری میں قادر پٹیل، لاڑکانہ میں عباسی اور دادو میں پیر مظہر کو اس کے مقابلے میں کھڑا کر دیا۔ زرداری، قادر پٹیل، پیر مظہر اور عباسی نے بھرپور طریقے سے میر کی مخالفت کی، جس کے نتیجے میں وہ دادو اور لیاری سے ہار گیا، مگر لاڑکانہ سے کامیاب ہو کر رکنِ صوبائی اسمبلی منتخب ہوا۔ یہ کامیابی بینظیر اور زرداری کے لیے دردِ سر بن گئی۔
جب فاروق لغاری پیپلز پارٹی کے صدر بنے اور بینظیر دوبارہ وزیرِاعظم بنی تو میر مرتضیٰ کو ایک بار پھر پاکستان آنے سے روکا گیا۔ اس نے عہد کیا کہ وہ ضرور اپنے وطن آئے گا۔ آخرکار ایک غیر اعلانیہ پرواز کے ذریعے وہ کراچی ایئرپورٹ پہنچا۔ جہاز سے اترتے ہی اس نے زمین کو بوسہ دیا اور "سندھ زندہ باد" کے نعرے لگائے۔ خبر ملتے ہی پیپلز پارٹی کی قیادت میں کھلبلی مچ گئی اور سندھ پولیس نے فوراً اسے گرفتار کر لیا۔ کچھ وقت جیل میں رہنے کے بعد وہ عدالت سے ضمانت پر رہا ہوا۔
سندھ اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران اس نے کہا:
"میں ذوالفقار بھٹو کا بیٹا ہوں، جلد ہی پورے سندھ کا دورہ کر کے تحریکوں میں شہید ہونے والوں کے لواحقین سے معذرت کروں گا اور عوام کے مشورے سے پارٹی کی حکمت عملی طے کروں گا۔"
یہ تقریر بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کی نیندیں اڑا گئی۔
1996ء میں جب میر مرتضیٰ ایوب گوٹھ کراچی میں جلسے سے خطاب کر کے واپس آ رہا تھا تو راستے میں سندھ پولیس، ایس ایس پی واجد درانی اور ایس ایچ او حق نواز سیال کی نگرانی میں گھات لگائے بیٹھی تھی۔ جیسے ہی میر وہاں پہنچا، فائرنگ شروع کر دی گئی۔ گاڑی گولیوں سے چھلنی ہو گئی۔ میر مرتضیٰ بھٹو، عاشق جتوئی سمیت 8 ساتھیوں کو جان بوجھ کر شہید کر دیا گیا۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ 40 دن گزر گئے مگر بینظیر نے اپنے بھائی کے قتل کا مقدمہ درج نہ کرایا۔ الٹا سندھ پولیس نے میر اور اس کے ساتھیوں پر "پولیس مقابلے" کا مقدمہ درج کر دیا۔ اس پر اُس وقت کے صدر فاروق لغاری نے نوٹس لیتے ہوئے 41ویں دن بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی اور نگران حکومت قائم کر کے میر مرتضیٰ کے قتل کا مقدمہ ایس ایچ او حق نواز سیال، ایس پی واجد درانی، آئی جی شعیب سڈل، آصف زرداری اور دیگر پر درج کرایا۔
مگر اس مقدمے کا فیصلہ آج تک نہ ہو سکا۔۔۔
یہ امر قابل زکر اور تشویش ھے کہ اسکے بعد گزشتہ دو دھاٸیوں سے پیپلز پارٹی کی حکومت برسراقتدار رہی لیکن یہ تو بینظیر بھٹو اور نہ ہے مرتظیٰ بھٹو کے قاتلوں کا کھوج لگا چکی جس سے صاف ظاہر ھوتا ھے ک دال میں ضرور کچھ کالا ھے یہ قتل ایک مضموم سازش کے تحت کراۓ گۓ

Comments
Post a Comment