ریلوے ٹینڈر اسکینڈل


 چین سے ریل گاڑیوں کے ڈبے منگوائے گئے تھے. ان میں کچھ عجیب شکل کے لوھے کے ڈھلے ھوئے بیرنگ Bearing Hub لگے تھے. کچھ ھی عرصہ کے بعد ان میں خرابی پیدا ھونا شروع ھو گئی. 
خراب والے بیرنگ چیک کرنے کے بعد  پانچ سو Hub کی ڈیمانڈ نکالی گئی.. 
ریلوے کا ایک ٹھیکیدار ھماری فیکٹری سے کچھ سامان تیار کرواتا تھا. 
اسے اندازہ تھا کہ ھم وہ  Hub تیار کر سکتے ہیں. وہ ان کی ڈرائنگز اور سیمپل لے کر آگیا. ھم نے اس لوھے کا ٹیسٹ کروایا، اس کی تیاری کیلئے مطلوبہ تمام آلات (.Pattern and jig fixtures.)
 کی قیمت کا حساب لگایا. 
اس میں اپنا منافع، اور غیر متوقع اخراجات وغیرہ شامل کرکے چھ ہزار پانچ سو کی کوٹیشن ٹھیکیدار کو دے دی. جو ھماری جانب سے کل بتیس لاکھ پچاس ھزار کا مال تھا۔ 
ٹھیکیدار نے اپنی دانست کے مطابق اور اس پرزے کی مناسبت سے بہت زیادہ قیمت کا ٹینڈر ریلوے کو بنا کر جمع کروا دیا . جسکی کل رقم ایک کروڑ پچاس لاکھ بن گئی 
ٹینڈر والے دن اس کا فون آیا وہ بہت خوش تھا.  کہنے لگا 
سر تیاری پکڑ لیں ھم نے ٹینڈر جیت لیا ہے. بس آپ نے جلد از جلد بالکل زبردست مال بنا کر دینا ہے. پھر تو ھم نے بھی ابتدائی تیاری شروع کردی 
ایک ھفتہ گزر گیا ٹھیکیدار نہیں آیا. 
اس سے پوچھا..تو اس نے غیرمناسب سا بہانہ بنایا کچھ دن اور گزرے. دوبارہ معلوم کیا. پتہ چلا کہ ٹینڈر منسوخ ھوگیا ہے. ھم نے اپنے تئیں منصوبہ دفن کر دیا. 
 پھر کچھ عرصہ اور گزر گیا. ایک اور ٹھیکیدار کسی کام سے ھمارے پاس آیا. 
باتوں باتوں  میں بیرنگ Hub کا ذکر بھی ھوا. تو بہت ھوش ربا کہانی سننے کو ملی. جس Hub کا نرخ ھم نے چھ ہزار پانچ سو دیا تھا، ھمارا خیال تھا ٹھیکیدار نے نو، دس ہزار میں اگے ٹینڈر حاصل کر لیا ھو گا. مگر
 پتہ چلا کہ اس نے Hub کی کوٹیشن تیس ہزار روپے فی پیس کے حساب سے سے جمع کرائی تھی چونکہ باقی سب کمپنیوں کے کوٹیشن ریٹس کے مقابلے میں سب سے کم تھی تو اسکو ٹھیکا مل گیا. لیکن بعد میں نامعلوم وجوہات پر اس ٹھیکیدار کو ملنے والا یہ ٹھیکہ منسوخ  کر دیا گیا. 
لیکن یہاں پر بھی بات رکی نہیں بلکہ اس ٹینڈر میں دوسرا کم ترین ریٹ پچاسی ہزار تھا. پچاسی ہزار والے نے  تیس ہزار والے ٹھیکیدار  سے کہا کہ بھائی جتنی رقم تمہیں محنت کرکے، سرمایہ لگا کر بچے گی تو اپنے منافع کے پیسے تم ھم سے ویسے ھی لے لو اور محکمہ کو درخواست لکھ دو کہ مجھ سے غلطی ھو گئی ہے میں اس قیمت پر سپلائی نہیں کرسکتا. اورپھر اس نے ایسا ھی کیا. 
کچھ عرصہ بعد دوبارہ ٹینڈر ھوا پچاسی ہزار فی Hub کے حساب سے دوسری کمپنی کو یہ آرڈر دیدیا گیا. 
جو مال ریلوے کو ایک کروڑ پچاس لاکھ میں مل سکتا تھا. وہ سوا چار کروڑ میں خریدا گیا. 
سپلائی کرنے والے ٹھیکیدار  نے چین سے انتہائی سستے داموں منگوا کر ریلوے کو فراھم کر دیئے. 
 زر مبادلہ بھی باہر گیا. مقامی صنعت بھی محروم رھی. اور محکمہ کو بھی خسارہ ھوا. 
یہ تو صرف ایک پرزے کی داستان ہے. 
بتانا یہی مقصود تھا کہ اس ملک میں یہی وہ دیمک ہے جو ھمارے اداروں کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ھونے دیتی. 
 معلوم نہیں کون سی ایسی کیڑے مار دوائی ھو گی جو  اس قسم کی تمام دیمکوں کو سب اداروں سے ختم کرسکے. 😥

ریلوے ٹینڈر اسکینڈل

پاکستان میں کرپشن کی داستان

ٹھیکیدار مافیا

مقامی صنعت کا نقصان

Bearing Hub Tender Fraud

Railway corruption in Pakistan

Pakistani industry problems

Tender fraud story Urdu

Local manufacturing in Pakistan

Imported railway parts issue

ٹینڈر میں فراڈ کی کہانی

ملکی خزانے کا نقصان

چین سے منگوائے گئے ڈبے

کرپشن کے اثرات

اداروں میں دیمک
#PakistanRailway
#CorruptionStory
#TenderScandal
#LocalIndustry
#MadeInPakistan
#BearingHub
#FraudExposed
#PakIndustry
#RailwayCorruption
#SystemKiDheemak
#TruthOfPakistan
#ContractorMafia
#PublicMoneyLoss
#UrduStory
#IndustrialLoss

Comments

Popular posts from this blog

بیٹسمین کے سر پر گیند لگنے کے بعد ڈاکٹر کون سے سوالات پوچھتا ہے؟ | Cricket Concussion Test Explained

حکومت کا بڑا فیصلہ: نیٹ میٹرنگ ختم، نیٹ بلنگ نافذ — سولر صارفین کے لیے بجلی مہنگی ہو گئی

حضرت سليمانؑ کیلئے جنات کے کھودے ہوۓ کنویں۔"