​سولر پینل، لیتھیم بیٹری اور الیکٹرک گاڑیاں: پاکستان کا بدلتا ہوا معاشی منظرنامہ​Solar system with Lithium battery Pakistan

 


اب سولر اور لیتھیم بیٹریز کا کامبینشن ایسا بن چکا ہے کہ حکومت جتنا مرضی ٹیکس لگا لے، اسے مکمل طور پر روکنا یا توڑنا آسان نہیں رہا۔ حکومت کو شاید ابھی بھی اس بات کا مکمل اندازہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے گھر، دکانیں، فارم ہاؤسز، فیکٹریاں اور ‏کاروباری مراکز پہلے ہی آف گرڈ یا ہائبرڈ نظام پر منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد ہر گزرتے مہینے کے ساتھ بڑھ رہی ہے، اور توانائی کے شعبے میں ایک خاموش انقلاب برپا ہو رہا ہے۔

لوگ اب لیتھیم بیٹریز کی طرف جا رھے ہیں۔ صبح سولر بجلی بنائے گا اور پھر وہی بجلی رات کو لیتھیم بیٹری ‏کی مدد سے استعمال ہو گی۔

نہ حکومت کو یونٹ دینے کا مسئلہ اور نا ان سے یونٹ لینے کا شور۔

اور اب مزید کمپنیاں پاکستان میں اپنی لیتھیم بیٹری کی فیکٹریاں لگانا شروع ہو چکی ہیں۔

چند سال پہلے تک سولر سسٹم لگانے والوں کی سب سے بڑی مشکل بیٹری تھی۔ دن کے وقت بجلی تو پیدا ہو ‏جاتی تھی لیکن رات کے اوقات یا بادلوں والے دنوں میں سسٹم کی افادیت محدود ہو جاتی تھی۔ اب صورتحال بدل چکی ہے۔ لیتھیم آئن بیٹریوں کی قیمتوں میں مسلسل کمی اور ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری نے سولر توانائی کو پہلے سے کہیں زیادہ قابلِ اعتماد بنا دیا ہے۔

اور اطلاعات ہیں کہ آنے ‏والے دنوں میں لیتھیئم بیٹری کی قیمت مذید کم ہونے جا رہی ھے۔

کیونکہ پاکستان میں سولر اور بیٹری اسٹوریج کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔مقامی امپورٹرز اور اسمبلرز اس بڑھتی ہوئی مانگ کو مکمل طور پر پورا نہیں کر پا رہے، جس کے باعث نئی کمپنیاں بھی پاکستانی مارکیٹ

‏میں داخل ہو رہی ہیں۔ توانائی کے شعبے سے وابستہ حلقوں کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں لیتھیم بیٹریوں کی مارکیٹ کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ اور پاکستان میں پروڈکشن ہونے کیوجہ سے قیمت بھی مناسب ہو گی۔

اس وقت تین بڑی لیتھیم آئن بیٹری فیکٹریاں کمیشننگ مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اس سے ‏پاکستان کے توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف بیٹریوں کی مقامی دستیابی بہتر ہوگی بلکہ درآمدی انحصار میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ مقامی پیداوار بڑھنے کی صورت میں قیمتوں میں استحکام اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ اور ان بیٹری کی مدت بھی ‏پانچ سے چھ سال تک ہوتی ھے۔

اس وقت پاکستان کے پاس 46 ہزار میگاواٹ سے زائد نصب شدہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن اصل مسئلہ پیداوار نہیں بلکہ طلب، تقسیم اور لاگت کا ہے۔ اگر لاکھوں صارفین اپنی بجلی کا ایک بڑا حصہ سولر اور بیٹریوں سے حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں تو قومی ‏گرڈ پر دباؤ کم ہو سکتا ہے، جبکہ مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار بھی گھٹ سکتا ہے۔

اس تبدیلی کا ایک اور اہم پہلو الیکٹرک گاڑیوں کا مستقبل ہے۔ اگر سستی بیٹریاں، سستی شمسی توانائی اور الیکٹرک گاڑیاں ایک ساتھ عام ہونا شروع ہو گئیں تو پاکستان کا درآمدی پٹرول اور ڈیزل بل نمایاں طور ‏پر کم ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں توانائی کا مستقبل صرف بجلی پیدا کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ توانائی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بھی اتنی ہی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں توانائی کے شعبے کی سب سے بڑی کہانی بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں بلکہ ‏سولر پینل، لیتھیم بیٹری اور الیکٹرک گاڑیوں کا وہ امتزاج ہے جو آنے والے برسوں میں پورے معاشی منظرنامے کو تبدیل کر سکتا ہے۔۔

کیونکہ لوگ اب قدرتی انرجی استعمال کرنا سیکھ گئے ہیں۔ اب حکومت چاہے کوئی بھی ٹیکس منصوبہ لے آئے، وہ کام نہیں کرے گا۔ منقول

#SolarRevolution #LithiumBattery #GreenEnergyPakistan #SolarEnergy #ElectricVehicles #OffGridPakistan #CleanEnergy #PakistanEconomy #SolarPower #LithiumIon #TechPakistan #RenewableEnergy


Comments

Popular posts from this blog

بیٹسمین کے سر پر گیند لگنے کے بعد ڈاکٹر کون سے سوالات پوچھتا ہے؟ | Cricket Concussion Test Explained

حکومت کا بڑا فیصلہ: نیٹ میٹرنگ ختم، نیٹ بلنگ نافذ — سولر صارفین کے لیے بجلی مہنگی ہو گئی

حضرت سليمانؑ کیلئے جنات کے کھودے ہوۓ کنویں۔"