https://vt.tiktok.com/ZSVhtwqYY/
مہر محمد خلیل کے مطابق بس کے آگے ایلیٹ پولیس کی دو گاڑیاں چل رہی تھیں۔ جیسے ہی قافلہ لبرٹی چوک پہنچا تو چاروں طرف سے گولیاں برسنے لگیں۔ ابتدا میں انہیں لگا کہ شاید مہمان ٹیم کے استقبال کے لیے آتش بازی کی جا رہی ہے، لیکن اگلے ہی لمحے ایک حملہ آور ان کے سامنے آیا اور کلاشنکوف سے سیدھی ان پر فائرنگ کر دی۔
دہشت گردوں نے سب سے پہلے آگے چلنے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو نشانہ بنایا۔ دونوں گاڑیاں بے قابو ہو کر ایک دائیں اور دوسری بائیں جانب ہوگئی، جس سے درمیان میں ایک راستہ بن گیا۔ مہر محمد خلیل نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر بس کی رفتار بڑھا دی۔ حملہ آور مسلسل بس پر گولیاں برساتے رہے، دستی بم پھینکا اور راکٹ بھی چلایا، لیکن خوش قسمتی سے دونوں حملے بس کو نشانہ نہ بنا سکے۔
مہر محمد خلیل نے اس وقت تک بریک نہیں لگائی جب تک بس کو قذافی اسٹیڈیم کے اندر محفوظ مقام تک نہیں پہنچا دیا۔ اس حملے میں آٹھ افراد جان سے گئے، جبکہ سات سری لنکن کھلاڑیوں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ اسٹیڈیم پہنچنے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے بس اور کھلاڑیوں کو اپنے حصار میں لے لیا، بعدازاں فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے سری لنکن ٹیم کو وہاں سے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔
حملے سے ایک رات پہلے سری لنکن بلے باز کمار سنگاکارا نے مہر محمد خلیل سے پوچھا تھا کہ کیا ہم پاکستان میں محفوظ ہیں؟ خلیل نے انہیں یقین دلایا تھا کہ اگر خدانخواستہ کوئی مشکل پیش آئی تو پاکستان میں ان جیسے ہزاروں لوگ مہمانوں کی حفاظت کے لیے اپنی جان قربان کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اگلے روز حملے کے بعد جب خلیل زخمی سنگاکارا سے اسپتال میں ملے تو انہوں نے کہا: ’’آپ ایک عظیم انسان ہیں، آپ میرے ہیرو ہیں‘‘
اس بہادری پر مہر محمد خلیل کو پاکستان اور سری لنکا کی جانب سے اعزازات اور نقد انعامات دیے گئے۔ تاہم انہیں خدشہ تھا کہ شہرت کے بعد دہشت گرد انہیں نشانہ بنا سکتے ہیں، اس لیے 2009 کے آخر میں وہ پہلے مراکش اور پھر جنوبی افریقہ چلے گئے۔ 2013 میں وہ پاکستان واپس آئے اور لاہور میں دوبارہ بس چلانے لگ
https://vt.tiktok.com/ZSVhWrjSd/

Comments
Post a Comment