تربیلا ڈیم کی جھیل میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جمع ہونے والی ریت اور مٹی، Silt
تربیلا ڈیم کی جھیل میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جمع ہونے والی ریت اور مٹی، یعنی
Silt، نے دربند کے قریب ایک بڑے سلٹ ڈیلٹا کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ سلٹ ڈیلٹا مسلسل تربیلا ڈیم کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس وقت ڈیم کی ٹنلز سے اس کا فاصلہ تقریباً 6 کلومیٹر رہ گیا ہے۔
یہ صورتحال انتہائی حساس اور فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ اگر اس سلٹ ڈیلٹا کا کوئی بڑا حصہ اچانک ٹوٹ کر تیزی سے آگے بڑھتا ہے تو اس کے نتیجے میں تربیلا پاور ہاؤس کی ٹنلز متاثر یا بند ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے، جس سے ملک کو بجلی اور آبپاشی کے حوالے سے شدید اور طویل مدتی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تربیلا ڈیم پاکستان کا ایک اہم ترین آبی ذخیرہ اور پن بجلی کا بڑا ذریعہ ہے۔ اسے ملکی معیشت اور زرعی نظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔ تربیلا ریزروائر تقریباً 97 کلومیٹر طویل، اوسطاً 2 کلومیٹر چوڑا اور بعض مقامات پر انتہائی گہرا ہے۔ اس وسیع ذخیرے میں دریائے سندھ کے ذریعے ہر سال بڑی مقدار میں مٹی اور ریت داخل ہوتی رہی ہے۔
واپڈا کی مختلف مطالعات میں بھی سلٹ کے مسلسل جمع ہونے اور اس کے نتیجے میں تربیلا ریزروائر کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پر پڑنے والے اثرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مسئلے کی ایک بڑی وجہ دریائے سندھ کے بالائی حصے میں مناسب sediment management، watershed management اور چیک ڈیمز جیسے اقدامات کا بروقت اور مؤثر انداز میں نہ ہونا بھی ہے۔
دربند کے قریب بننے والا یہ سلٹ ڈیلٹا ایک تشویشناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس کی لمبائی خاصی زیادہ جبکہ اونچائی بعض مقامات پر 250 فٹ سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے۔ ماضی میں یہ ڈیلٹا تربیلا ڈیم اور پاور ٹنلز سے تقریباً 12 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، لیکن اب اس کا فاصلہ کم ہو کر تقریباً 6 کلومیٹر رہ جانے کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔
اگرچہ معمول کے مطابق سلٹ ڈیلٹا کا آگے بڑھنا ایک سست عمل ہے اور اسے کئی سال لگ سکتے ہیں، لیکن اصل خطرہ اس وقت پیدا ہوسکتا ہے جب کسی قدرتی یا غیر معمولی وجہ سے اس کا کوئی بڑا حصہ اچانک ٹوٹ جائے۔ ایسی صورت میں بھاری مقدار میں مٹی اور ریت انتہائی تیزی سے ڈیم اور پاور ہاؤس کی جانب بڑھ سکتی ہے۔
خصوصاً تربیلا پاور ہاؤس کی ٹنل نمبر 1 اور 2 کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ نسبتاً اونچائی پر واقع دیگر ٹنلز کے متاثر ہونے کا خطرہ مختلف ہوسکتا ہے۔ اگر پاور ہاؤس کی اہم ٹنلز متاثر ہوئیں تو تربیلا سے حاصل ہونے والی ہزاروں میگاواٹ پن بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے لیے پانی کی فراہمی بھی سنگین طور پر متاثر ہوسکتی ہے۔
اس کے نتیجے میں نہ صرف پاکستان کے توانائی اور زرعی شعبے کو نقصان پہنچے گا بلکہ ملکی معیشت کو کھربوں روپے کے ممکنہ نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ تربیلا ریزروائر میں سلٹ جمع ہونے کے مسئلے پر ماضی میں متعدد مطالعات اور تحقیقات کی جا چکی ہیں، مگر اس کے باوجود اس خطرے کے مستقل اور مؤثر حل کے لیے مطلوبہ سطح پر عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔
اب وقت آگیا ہے کہ اس معاملے کو محض ایک تکنیکی مسئلہ سمجھنے کے بجائے قومی اہمیت کا ہنگامی مسئلہ قرار دیا جائے۔ حکومتِ پاکستان، وزیراعظم، واپڈا، وزارتِ آبی وسائل، متعلقہ انجینئرز، ماہرینِ آبی وسائل اور دیگر اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ اس صورتحال کا فوری طور پر آزادانہ اور سائنسی بنیادوں پر جائزہ لیں۔
سلٹ ڈیلٹا کی موجودہ پوزیشن، اس کی رفتار، حجم، ممکنہ لینڈ سلائیڈنگ یا اچانک ٹوٹنے کے امکانات اور ٹنلز و مین ڈیم پر اس کے ممکنہ اثرات کا فوری جامع تکنیکی سروے کرایا جائے، تاکہ کسی ممکنہ تباہی سے پہلے حفاظتی اقدامات کیے جاسکیں۔
تربیلا ڈیم کو کسی حادثے کے بعد نہیں بلکہ حادثے سے پہلے بچانے کی ضرورت ہے۔
اگر آج اس خطرے کو نظرانداز کیا گیا اور کل کوئی بڑا حادثہ پیش آگیا تو یہ صرف ایک انجینئرنگ کی ناکامی نہیں بلکہ ایک سنگین قومی غفلت تصور ہوگی۔
حکومت اور متعلقہ ادارے فوری طور پر اس حساس معاملے کا نوٹس لیں اور ماہرین کی سفارشات کی روشنی میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔

Comments
Post a Comment